ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حلقہ اسمبلی بیدر سے تیسری بار منتخب ہونے والے مسلم کانگریس قائد رحیم خان کو وزارت میں شامل نہ کئے جانے پر شدید ناراض

حلقہ اسمبلی بیدر سے تیسری بار منتخب ہونے والے مسلم کانگریس قائد رحیم خان کو وزارت میں شامل نہ کئے جانے پر شدید ناراض

Sat, 09 Jun 2018 11:46:50    S.O. News Service

بنگلورو8جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ممتازکانگریسی قائد اور رکن اسمبلی بیدر مسٹر رحیم خان کے تیسری بار بھی کرناٹک اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کے باوجود انھیں ریاستی وزارت میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ اس عدم شمولیت اور تیسریبار بھی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کے باوجود انھیں وزارتی عہدہ نہ دینے کے خلاف مسلمانان بیدر ، اور حیدر آباد کرناٹک میں نہایت شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں کانگریسی اقلیتی سیل کے قائد اور ضلع وقف مشاورتی کمیتی کے سابق نائب صدر مسٹر جاوید جاگیردار نے کہا ہے کہ بیدر سے کانگریس آئی رکن اسمبلی جناب رحیم خان کا نام کانگریس کے متوقع وزراء کی فہرست میں شامل تھا لیکن ایک منظم سازش کے تحت لمحہء آخر میں ان کا نام متوقع وزراء کی فہرست سے نکال دیا گیا ۔ اس طرح سے علاقہ حیدر آباد کرناٹک سے مسلم قیادت کا خاتمہ کرنے کی منظم سازش کی گئی ۔ رحیم خان بیدر سے اپنے بل بوتہ پر منتخب ہوئے لیکن انھیں کابینہ میں شامل نہ کرکے اس ؤعلاقہ سے مسلم قیادت کو ابھرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ آر روشن بیگ اور تنویر سیٹھ جیسے قائیدین کو بھی کابینہ میں شامل نہ کرکے کانگریس نے ریاستی مسلمانوں کو سخت ناراض کردیا ہے۔کانگریس اور جے ڈی ایس نے کسی مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیاتھا لیکن ڈپٹی چیف منسٹر بنانا تو دور کی بات کابینہ میں مسلمانوں کو مناسب ننمائیندگی تک نہیں دی گئی۔ اس طرح کانگریس نے پھر ایک بار یہ ثابت کردیا کہ وہ مسلمانوں کو محض ایک ووؤٹ بینک سمجھتی ہے۔ آخر کب تک کانگریس مسلامانوں کو بی جے پی کا خوف دلا کر ووٹ حاصل کرتی رہے گی ۔ کانگریس نے مسلمانوں کو کئی زخم دئیے ہیں ۔ کانگریسی سینئیر قائد سلمان خورشید نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے بجا کہا کہ کانگریس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں نے بابری مسجد کا غم بھلاتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو نظر انداز کرتےؤ ہوئے 2018کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی مکمل تائید کی ۔لیکن کانگریس نے کابینہ کی تشکیل کے موقع پر اہم مسلم ارکان اسمبلی کو نظر انداز کردیا ۔ اگر کابینہ کی اگلی توسیع میں بیدر سے جناب رحیم خان کو شامل نہیں کیا گیا تو اس صورت میں کانگریس کو اس کا خمیازہ 2019کے پارلیمانی انتخابات میں بھگتنا پڑے گا۔ مسلمان اگر کانگریس کی مکمل حمایت کرسکتے ہیں تو اسے سبق سکھانا بھی جانتے ہیں ۔ اگر مسلمان بیدار ہوجائیں تو کانگریس کا متبادل تیار کرسکتے ہیں یا پھر انتخابات ہی کابائیکاٹ کرسکتے ہیں ۔ ۔ کانگریس اگر یہ سمجھتی ہے کہ مسلمان اس کے سوا کسے ووٹ دیں گے تو یہ اس کی بھول ہے۔ کانگریس کویہ بات اچھی طرح جان لینا چاہئے کؤ2019کے لوک سبھا انتخابات میں اسے گلبرگہ اور بیدر کی لوک سبھا کی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔


Share: